500 or 100 ke notes ke peeche ka sach


download 500اور 1000 کے نوٹوں کی وجہ سے ہونے والے پریشانیوں سے تمام لوگ واقف ہیں لیکن یہ پریشانی ایک عذاب کی شکل میں ہمارے اوپر آئی ہے جس کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔

کیا آپ نے کبھی اس غریب کی لڑکی کو نہیں دیکھا جو غریب ہونے کی وجہ سے پڑھ نہیں سکتی، بڑی ہونے پر جہیز نہ ہ ونے کی وجہ سے اس کی شادی نہیں ہوتی۔

امیر لوگوں کی داوتوں میں کھانا کھانے کو ہم فخر محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی کمائی ہوئی دولت کے بارے میں ہم کبھی نہیں سوچتے، آج ہم حرام و حلال کی تمیز بھی بھول گئے ہیں۔

دو گز زمین کو بھول کر بڑے بڑے گھروں کی تمنا کرنے والے، عالی شان مکانوں میں رہنے والوں، بڑی اور مہنگی گاڑیوں میں گھومنے والوں کو ہم اچھی نگاہ سے  دیکھتے ہیں  لیکن غریب کی غربت کا مزاق اڑاتے ہوئے ہم کھبی نہیں تھکتے۔

انگلش میڈییم اسکولوں میں بڑی بڑی رقم خرچ کرنے کو ہم دنیا کی کامیابی سمجھتے ہیں، صجح 4 5 بجے اٹھنے میں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی لیکن ایک دن بھی اللہ کے گھر کو آباد کرنے کی ہمیں ضروت تک نہیں ہوتی۔

ہر ہفتے نئے جوڑے، مہنگیں مہنگیں لباسوں کو خریدنے کو ہم اپنی شان سمجھتے ہیں۔ گھروں میں بے انتہا سونا جمع کرنے کو ہم اپنا نصیب سمجھتے ہیں۔

شادی کے سال گرہ پر موٹی موٹی انگھوٹھیوں اور چینوں میں ہم اپنا پیار تلاش کرتے ہیں جبکہ اسی سونے پر مرنے کے بعد ہمارے

چاہنے والوں کی نگاہ ہوتی ہے۔ مرنے سے پہلے اس سونے کو کسی مسجد بنانے، کسی یتیم کی شادی کرانے، کسی بچے کی سرپرستی میں خرچ کرنے کی ہمیں توفیق نہیں ہوتی۔

شادی کے بعد بیٹی جتنا زیادہ سونا پہنتی ہے ماں اتنی ہی زيادہ خوش ہوتی ہے، کاروبار میں ترقی کے بعد بیٹے کے سونا کے تہفے دینے پر ماں باپ پھولے نہین سماتے لیکن کبھی یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اس سونے کے اللہ کی راہ میں قربان کر دیا جائے۔

آج 500 اور 1000 کے نوٹوں کی وجہ سے امیر غریب، راجا اور رنگ سب بھکاری بن گئے۔

500 اور 1000 کے (500 notes and 1000 notes) نوٹوں میں اپنی کامیابی تلاش کرنے والوں کے لئے یہ اللہ کا کھلا عزاب ہے۔

آج ہم مودی کو گالیاں بک رہے ہیں، اسے تعصب پرست سمجتے ہیں، اسے گمراہ قرار دے رہے ہیں، لیکن ہم یہ بھول جانے ہیں کہ حاکم کو تو خود اللہ مسلت کرتا ہے۔

500 اور 1000 کے نوٹوں (500 notes and 1000 notes) کی گڈیوں کو لوگ جلا رہے ہیں، پانی میں بہا رہے ہیں، کچرے کے ڈھیر پر پھینک رہے ہیں، آج ان کی کمائی ہوئی دولت ہی ان کا عزاب بن گئی۔

بڑے بڑے گھروں میں رہنے کو شان سمجھتے ہیں۔ ایک گھر سے پیٹ نہین بھرتا، دوسرا گھر بھی کم پڑتا ہے، تیسرے گھر کو خریدنے کی بھی چاہت ہوتی ہے لیکن مجال ہے جو اللہ کا گھر بنانے کے لیے سوچ بھی لیں۔

لوگ آخرت اور قبر سے نہیں ڈرے، اللہ کو کھول گئے لیکن مودی کے آگے جھک گئے۔

اور اگر اب بھی نہیں سوچا تو کبھی نہیں سوچو گے۔

Advertisements

Author: S. A. Razmi

The author is a creative writer with deep knowledge of human taste, can add interest and fun in his writing; has been writing for more than 7 years and working as Urdu-English translator and transcriptionist. http://www.languagetranslationagencydelhi.com

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s